Tuesday 17 March 2015

آنکھ کے بدلے۔۔بے گناہ کی آنکھ


آنکھ کے بدلے۔۔بے گناہ کی آنکھ
حفیظ درویش
عیسائیوں نے چرچ حملوں کے بعد دو بندے مارکر اپنا کیس کافی کمزور کردیا ہے۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے حق میں جو غیرمشروط بحث چھڑنی تھی اوران پر ہونے والے ظلم کے خلاف جوآواز اٹھنی تھی۔ وہ کافی حد تک دب گئی ہے۔ گاندھی کے مطابق آنکھ کے بدلے آنکھ کا رویہ پوری دنیا کو اندھا کردے گا ۔جبکہ میری نظر میں آنکھ کے بدلے کسی بے قصور آدمی کی آنکھ پھوڑنا پورے پاکستان کے امن کو خطرے میں ڈال دے گا۔قتیل کا یہ شعر سب کےلیے ایک تحریک ہے کہ
دنیا میں اُس سے بڑھ کے منافق نہیں قتیل
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا۔۔۔
لیکن لیکن لیکن۔۔۔
بغاوت کریں۔ ضرور کریں۔ پر ہم سب کو یاد رکھنا چاہیےکہ بغاوت اوربے جا قتل وغارت دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔

Wednesday 11 March 2015

ضمیر کا بیرئیر ۔۔۔۔


ضمیر کا بیرئیر ۔۔۔۔
 حفیظ درویش
وہ اسلام آباد میں مری روڈ پر سامنے سے آنے والی  ٹریفک  کے بیچ ٹرانس کی حالت میں کھڑی تھی۔تیس سال سے اوپر کی عمر، قدرےموٹی آنکھیں ،گندمی رنگت،تھوڑا نکلا ہوا قد اور بھرا ہوئے جسم کی وجہ سے وہ کافی بھلی لگ رہی تھی ۔ تن پر موجود  سستے اور بے رنگ سے کپڑے اس بات کی چغلی کھا رہے تھے کہ اُس کا تعلق لوئر مڈل کلاس سے ہے۔دوپٹہ سر سے ڈھلکا ہوا تھا۔صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے  روڈ پر بہت زیادہ رش تھا۔ لیکن گاڑیوں والے اس خاتون کو بچاتے ہوئے آس  پاس سے گذر رہے تھے۔پر وہ چپ چاپ کھڑی آنے والی ٹریفک کو آنکھ چھپکے بغیر تکے جارہی تھی۔

 اتنے میں اس کے پیچھے اسے ایک مرد بھاگتا ہوا آیا اور کندھوں سے پکڑ کر اس کا منہ اپنی طرف کیا اور پھر اس پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ تھوڑی دور آگے جاکر دو  موٹرسائیکل کھڑے تھے۔ جن  میں سے ایک پر دو مرد تھے جبکہ ایک سٹینڈ پر کھڑا تھا۔غالب امکان یہی ہے کہ یہ خاتون اس موٹر سائیکل سے اتر کر اس طرف ٹریفک میں آکر کھڑی ہوگئی تھی۔جس کے بعد مرد نے موٹرسائیکل کھڑی کی ہوگی اور اس کو پکڑنے روڈ کے درمیان آگیا اور وہیں پر اس کو سزادینے لگا۔امکانات سو ہوسکتےہیں کہ یہ عورت ٹریفک کے درمیان کیوں کھڑی تھی۔

ممکن ہے کہ یہ اپنے شوہر سے ناخوش ہو اور اس وجہ سے نفسیاتی مریض بن گئی ہو۔ بے الاود  ہواور طعنوں نے اس کے حواس چھین لیے ہوں ۔ممکن ہے کہ غربت سے تنگ کر اس نے کسی گاڑی کے نیچے آجانے کا فیصلہ کرلیاہو۔ممکن  ہے کہ اس  کا شوہر اسے  ماں باپ کے گھر ہمیشہ ہمیشہ  کےلیے چھوڑنے جارہا ہو۔ یہ بھی امکان ہے کہ   جو آدمی اس کو تھپڑ مارہا تھا وہ اس کا بھائی، دیور یا کزن ہو۔ سو امکانات ہوسکتے ہیں کہ وہ وہاں کیوں کھڑی تھی۔ لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس عورت  پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت میں، سرعام اور سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں تھپڑوں کی بارش نہیں ہونی چاہیے تھی۔ایک مسلمان ملک،جہاں چوبیس گھنٹے یہ ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر پھاڑا جاتا ہے کہ خواتین بہت اعلی مقام کی حامل ہیں۔ان کو بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ یہ عزت اور وقار کے لائق ہیں۔ ان کو پھولوں کی طرح رکھنا چاہیے ۔ جہاں ہر کسی کے  منہ سے یہ مصرعہ سنائی دیتا ہے کہ۔۔وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ۔۔وہاں عورت کی یوں بے توقیر ی نہیں کی جانی چاہیے تھی۔

تھپڑ مارنے کے بعد وہ (نا)مرد اس بے بس خاتون کو ہاتھ سے پکڑکر موٹرسائیکلوں کی طرف آنے لگ گیا جو تھوڑی آگے کھڑی تھیں۔سب چپ تھے۔کسی نے آگے بڑھ کر اس بندے کا ہاتھ نہیں روکا۔ ہر کوئی گذر رہا تھا۔کسی نے اپنی گاڑی کی سپیڈ ہلکی کرنا بھی گوارا نہ کی۔سب گذر رہے تھے ۔ یہ سب میرے سامنے  پندرہ سے بیس سکینڈ میں ہوا اور اس کے بعد میں اس جگہ  سےکافی آگے نکل گیا۔ہم لوگوں کے لاشعور میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ اگر عورت مار کھا رہی ہے تو یہ معمول کی بات ہے اور اس پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ مجموعی طور پر ہمارا رویہ عورت  پر تشدد کے حوالے سے سرد ہے۔ یہ مار پیٹ ہم بچپن سے دیکھتے چلے آرہےہیں ۔ سڑک  پر گدھا پٹ رہا ہوں یا عورت ۔ بدقسمتی سے ہمارا رویہ دونوں کے حوالے سے ایک سا ہے۔یعنی تھوڑا ساتاسف کرکے آگے گذر جاتےہیں۔کیونکہ یہ ایک معمول ہے اور معمول سے ہٹ کرکچھ سوچنا اور کرنا ویسے بھی انسانوں کےلیے کافی مشکل ہے۔اس ملک میں مجموعی طور پر جانوروں اور عورتوں کی حیثیت ایک سی ہے۔
میں بھی ان بزدلوں میں شامل تھا جواس عورت کو پٹتے ہوئے دیکھ  کر گذرگئے۔کیونکہ مجھے بھی آفس جانا تھا۔ آس پاس سے گذرتے ہوئے سینکڑوں لوگوں کی طرح  یہ معاملہ میرا معاملہ نہیں تھا۔ گذر تو آیا  لیکن   اب ضمیر کے بیرئیر سے آگے نہیں  جاپارہا  ۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور آخر کار میں نے یہ سب لکھ ڈالا۔ میں مانتا ہوں  کہ میرا ایمان اتنا مضبوط نہیں  تھا کہ اس وقت آگے بڑھ کر اس کو روک دیتا۔ لیکن میں اس کو دل میں برا نہیں کہوں گا۔ میں اپنے قلم اور منہ سے اس کو برا کہوں گا۔ امید کرتا ہوں کہ   لفظوں سے شروع کیا ہوا یہ سفر ایک دن کسی ظالم کا ہاتھ روکنے  تک پھیل جائے گا۔

Monday 9 March 2015

حجاب ، عورت کی چوائس یا زبردستی کا نفاذ!!!


حجاب ، عورت کی چوائس یا  زبردستی کا نفاذ!!!
حفیظ درویش
کل شام کے وقت میری چھوٹی   بہن میرے کمرے میں آئی ۔یہ کلاس نائنتھ  کی اسٹوڈنٹ ہے۔اس نے بغیر کسی تمہید کےکہا کہ کل آپ میرے سکول آئیں گے۔ میری ایک مس نے مجھے منہ پر تھپڑ مارا  اور اس نے ایسا دوسری بار کیا ہے۔میں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ سکول میں سر سے دوپٹہ ڈھلکنے پراس نے یہ سزا دی ہے۔یہ بات سننی تھی کہ میرا پارہ   چڑھ گیالیکن میں نے اپنے تاثرات پر قابو پاتے ہوئے  کہا کہ میں کل آؤں گا اور پوری بات سنوں گا کہ ہوا کیا ہے۔ویسے مجھے یقین تھا کہ میری بہن غلط بیانی نہیں کررہی لیکن پھر بھی میں اس ٹیچر کا موقف سننا چاہتا تھا۔خیر آج صبح میں سکول پہنچ گیا۔پرنسپل نے اس ٹیچر کو اپنے آفس میں بلایا۔جب میں نے اس کا حلیہ دیکھا تو  مجھے اسی وقت یقین ہوگیا کہ اس بی بی سے بعید نہیں کہ اس نے میری بہن کو مارا ہو۔اس کی عمر کوئی تئیس چوبیس سال ہوگی۔ سر سے پاؤں تک بلیک  ڈھیلاڈھالا گاؤن جس کی وجہ سے اس کا فربہی جسم مزید پھیلا پھیلا لگ رہا تھا۔ سر پر بلیک سکارف  فینسی پن کے ذریعے ٹائٹ کیا ہوا۔موٹے موٹے ہاتھ پاؤں ۔سیاہی مائل گندمی رنگت ۔یہ محترمہ شکل سے جلاد  لگ رہی تھی ۔میں نے جب اس  سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں نے ایک ہلکا سا تھپڑ مارا تھا۔اس  کا موقف تھا کہ  چونکہ یہاں میل ٹیچرز  بھی  ہوتےہیں اس لیے لڑکیوں پر سختی کرنی پڑتی ہے۔
جس پر میں نے پوچھا کہ آپ لڑکیوں کو پیٹنے کی بجائے میل ٹیچرز پرسختی کیوں نہیں کرتی کہ وہ لڑکیوں کے سروں کو نہ گھوریں۔ میرے اس سوال سے ان کے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ میں اس کو شاباش دوں گاکہ آپ ہمارے بچیوں کو دوپٹے پہنا کر احسان کررہی ہیں۔اس کے بعد تو میں شروع ہوگیا۔
میں نے کہا کہ آپ کی جو بھی آئیڈیالوجی ہے اس کو گھر تک ہی رکھیں۔آج دنیا بدل رہی ہے۔ فرسودہ خیالات اور روایات کو ترک کیا جارہا ہے۔ ایسےمیں آپ کا یہ رویہ کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ آپ  خود کےلیے حجاب پسند  کرتی ہیں تو سو بار کریں۔ لیکن جن کو پسند نہیں ان پر زبردستی نہ کریں۔
جس پر وہ محترمہ بولی کہ ماڈرن بننے کےلیے فقط دوپٹہ چھوڑ دینا ضروری نہیں ہے۔ لباس تو جانور بھی نہیں پہنتے تو کیا وہ ماڈرن ہوگئے  ہیں؟
جس پر میرا رہا سہا کنٹرول بھی جاتا رہا اور میں نے کہا کہ جس طرح کا لباس آپ نے پہن رکھا ہے انسان ایسا لباس بھی نہیں پہنتے۔یہ توایسا لباس ہے کہ گرمیوں میں بندہ پہن لے تو دم گھٹنے سے بےہوش ہوجائے۔راستے میں چلے تو پورے راستے کی صفائی بھی ہوتی رہے۔اگرموٹرسائیکل یا سائیکل کی چین میں پھنس جائے تو سڑک پر تماشا بن جائے۔کسی ناکے پر  ایسی گاڑی یا موٹرسائیکل کو پہلے روکا جاتا ہے جس پر  کوئی برقعہ  پوش خاتون بیٹھی ہو۔دوسرا ایسےلباس میں پتہ ہی نہیں کہ یہ جو کالا سا گاؤن چلا جارہا ہے اس کے اندر کوئی انسان ہے یا حیوان ۔ایسے میں آپ اس کو انسانوں کا لباس کہتی ہیں۔اب محترمہ کی شکل دیکھنے والی تھی۔اس دوران پرنسپل بولی کہ سر ہم کوشش کریں گے کہ آئند ہ ایسا نہ ہو۔لیکن آپ نے مہربانی کرنی ہے کہ اب اپنی بہن کو یہ نہیں کہنا کہ میں نے آپ کی مس کو کہہ دیا ہےکہ وہ آئندہ ایسا کچھ نہیں کرے گی۔ کیونکہ آپ کی بہن دیگر طالبات کو یہ بات  بتا دے گی۔ جس کی وجہ سے کل دیگر لڑکیاں بھی والدین کو لانا شروع کردیں گی۔جس پر میں نے پرنسپل  سے عرض کی کہ میم یہ بچیوں کا حق ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی کسی بھی ماردھاڑ کی شکایت  آپ سے یا اپنے والدین سے کریں۔آپ اپنی ٹیچرز پر توجہ دیں کہ وہ  حجاب جسے غیرضروری  معاملات پر اپنی توانائی ضائع کرنے کی بجائے  پڑھانے پر توجہ دیں اور اس کے بعد میں نے سلام کیا اور دفتر سے نکل آیا ۔ اور پورے راستے سوچتا رہا کہ اس معاشرے میں مرد شاید عورت کے حقوق کی راہ میں اتنی بڑی رکاوٹ نہیں ہیں جتنی کہ خود خواتین ہیں ۔جبکہ مذہبی لوگوں کا یہ نعرہ نرا جھوٹ پر مبنی ہے کہ حجاب عورت کی چوائس ہے۔
حفیظ درویش

Thursday 26 February 2015

شکرہے ۔۔تم قدرت کے آقا نہیں


شکرہے ۔۔تم قدرت کے آقا نہیں
حفیظ درویش
شکر ہے اور ہزار شکر ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کی قدرت پر قدرت نہیں ہے۔ یہ سورج جو روز مشرق سے نکلتا ہے  اور اپنی حرارت اور روشنی لوگوں پر نچھاور کرتا ہے ۔اگر یہ ہمارے حکمرانوں کے زیر نگیں ہوتا تو اس کی روشنی غریب پاکستانی عوام کےلیے ایک خواب ہوجاتی۔ ہمارے حکمران   جب اور جس وقت چاہتے ا س کی روشنی اور حرارت لوگوں کو فراہم کرتے اور جب ان کا دل کرتا اس کی لوڈشیڈنگ شروع کردیتے۔ لوگ اپنے معصو م اور ٹھٹھرتے ہوئے بچوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر ان کی منتیں کرتے کہ کچھ دیر کو گرمی عطا کردیں۔ کچھ لمحوں کےلیے اندھیروں سے ہماری جان چھڑا دیں۔ پر ہزار شکر کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ سور ج اپنی روٹین کےمطابق آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ ویسے حکومت میں موجود وزراء اس کو دیکھ کر حسرت بھری آہ ضرور بھرتے ہوں گے اور  سوچتے ہوں گے کہ اگر یہ سورج ہمارے قبضے میں ہوتا تو ہم غریب عوام کی جیبوں سے مزید اربوں روپے اسی مد میں نکال لیتے ۔ ایسے میں ان وزراء لیے بس ایک ہی مشورہ ہے کہ
جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سوجا
اگر یہ ہواان لوگوں کی دسترس میں ہوتی تو سوچیے کہ لوگوں پر کیا عذاب ٹوٹ پڑتا۔ جگہ جگہ لوگ تڑپتے، سسکتے اور بلکتے ہوئے ملتے ۔ جن کے پاس پیسے نہ ہوتے وہ کسی گلی ، سڑک یا پھر چوراہے پر اپنا گلا پکڑے تڑپ رہے ہوتے جبکہ دیگر لوگ آس پاس سے گذرتے ہوئے ان پر ترحم کی نگاہ ڈالتے۔ موٹی گردنوں والے حکومتی اراکین  ٹی وی سکرینوں پر آکر  دھمکیاں دیتے کہ اگر لوگوں نے بروقت پیسے نہ دیے تویہ اسی طرح مرتے رہیں گے۔ حکومت ہڈ حرامی برداشت نہیں کرسکتی ۔ ان کے اس طرح بغیر کسی معاوضے کے آکسیجن استعمال کرنے سے حکومتی خزانے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
اگر یہ بادل اور بارش ان  کے ہاتھ میں ہوتی تو پھر تب تک کوئی سہانا موسم نہ دیکھ پاتا جب تک حکومتی اداروں کو بھاری بھرکم معاوضہ نہ اادا کردیتا۔جو معاوضہ ادا کردیتا اس کو ایک خاص ہا ل میں لے جاکر فلم کی طرح موسم اور بادل کے رنگ دکھا دیئے جاتے اور پھر وقت ختم ہونے پر اسے آلودہ ماحول میں دوبارہ دھکیل دیا جاتا ۔ شکر کا مقام ہے کہ ان بادلوں پر ان کی حکومت نہیں ۔ یہ ستارے ان کی دسترس میں نہیں ۔ بارش ان سے پوچھے بغیر برستی ہے۔ شکرہے کہ حکمران قدرت کے حاکم نہیں ۔ فیض نے  اپنی نظم "زندان کی شام" میں  کیا خوب چیلنج دیا ہے  ان جیسے حکمرانوں کو۔ اس نظم کےآخری چند مصرعے کچھ یوں ہیں۔
دل میں پیہم خیال آتا ہے
اتنی شیریں ہے زندگی اس پل
ظلم کا زہر گھولنے والے
کامراں ہوسکیں گے آج نہ کل
جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکے اگرتو کیا
چاند کو گل کریں تو ہم مانیں۔

Sunday 22 February 2015

فرق سمجھنے کی ضرورت ہے ۔۔



فرق سمجھنے کی ضرورت ہے ۔۔
حفیظ درویش
وہ زگ زیگ کرتے ہوئے  گاڑیوں کے درمیان سے تیزی سے اپنی کَھڑکی ہوئی  ایف ایکس  بھگائے جارہا تھا۔اس نے مجھے جس طرح کراس کیا اس پر وہ ایک تگڑی سی گالی کا مستحق تھا  لیکن میں نے صبر کا مظاہرہ کیا۔اس وقت میرا  غصہ مزید بڑھا  جب میں نے دیکھا کہ اس  گاڑی میں دو سکول کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی بیٹھے ہیں۔یہ صاحب شاید گاڑی اس لیے بھگارہے تھے کہ بچے سکول سے لیٹ ہورہے تھے۔اس وقت یہ صاحب جس جگہ تھے وہاں سے کوئی بھی ممکنہ سکول دس منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔جبکہ اس وقت  آٹھ کر پچیس منٹ ہورہے تھے
ان صاحب کی لمبی داڑھی، شانوں پر بکھرے گنگھریالے سیاہ بال ، سر پر سفید عمامہ اس بات کی چغلی کھا رہے تھے کہ یہ صاحب دین پر کاربند ہونے کی ممکنہ کوشش میں مصروف ہیں۔خیر آگے چیک پوسٹ آئی۔اس چیک پوسٹ سے میرا روز گزر ہوتا ہے۔وہاں پر ان صاحب کو دھر لیا گیا تھا۔اب وہاں ایلیٹ فورس کا جوان ان کی گاڑی کے اندر تانک جھانک کررہاتھا اور ان کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہاتھا۔ جس کے بعد اس نے بچوں کی پرواہ کیے بغیر گاڑی سائیڈ پر لگانے کا اشارہ کردیا۔مجھے ناکے کو کراس کرنے میں تین سے چار سکینڈ لگے ہوں گے لیکن اس دوران ان معصوم بچوں کے چہروں پر پھیلی حیرت اور پریشانی،  موصوف کے چہرے پر آنے والے تکلیف کے آثار اور پولیس  کانسٹیبل کے بگڑے ہوئے تاثرات نے دل پر عجیب سا اثر کیا۔ تھوڑی دیر پہلے جس شخص پر مجھے شدید غصہ آرہاتھا اب اس پر ترس آنے لگا۔اس آدمی کو صرف اس کے حلیے کی بنیاد پر پکڑنا درست نہیں تھا۔گو کہ اس کی شکل و صورت آج کل کے دہشت گردوں کی مبینہ شکل سے مل رہی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ایک ایسا مسلک بھی پایا جاتا ہے کہ جس کے افراد میں اور طالبان میں فرق کرنا کافی مشکل ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں ہم ایک انتہائی مشکل وقت سے گذر رہےہیں ۔اب سادہ لوح مسلمانوں اور طالبان کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اس طرح تو پورے ملک میں مسائل کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔اس وقت ہمیں داڑھیوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔کس کی داڑھی سنت ہے اور کس کی فرعون جیسی ہے ۔ ہمیں یہ جان کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔